ماں کی دعا ہے جو ہر موڑ پہ سایہ بن کر
ماں کی دعا ہے جو ہر موڑ پہ سایہ بن کرساتھ چلتی ہے مری دھوپ میں چھایا بن کرمیں جہاں بھی رہوں، جس حال میں رہوںاس کی آنکھوں کا دیا ہوں، مجھے بجھنے نہ دےوقت کی آندھی بھی آئے تو یہ جانتا ہوںاس کے ہاتھوں کی لکیروں میں مرا نام لکھا ہے
نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!