دو لائن امیدرات کتنی بھی ہو گہری، سحر آتی ہےصبر والوں کی دعا لوٹ کے گھر آتی ہےکل1 55 0 شیئر WhatsApp Facebook X Telegram Copy link Download image More… WhatsApp Facebook X Telegram Image
ااردو والی پوئٹری3 دن پہلے دو لائن امید اندھیری رات کا شکوہ نہ کر اے دلچراغ اپنا جلا، روشنی خود آئے گی
ااردو والی پوئٹری3 دن پہلے دو لائن امید ابھی تو پھول کھلنے ہیں ابھی بہار آنی ہےابھی تو دل کی ہر اک بات تجھ کو بتانی ہے
ااردو والی پوئٹری4 دن پہلے دو لائن امید گرے ہیں جو بھی وہی اٹھ کے مسکرائے ہیںہوا کے ساتھ بھی کچھ پیڑ لڑ کے آئے ہیں
ااردو والی پوئٹری5 دن پہلے دو لائن امید نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی — علامہ اقبال
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!