ااردو والی پوئٹری11 Oct 2026 نظم امید نیا سویرااندھیری رات کے دامن میں اک ستارا ہےیہی ستارا مرے حوصلوں کا سہارا ہےگلی گلی میں جو خاموشیاں بکھرتی ہیںانہی میں کل کی نئی صبح بھی اترتی ہےتو اپنے ہاتھ کی محنت پہ اعتبار تو کریہ وقت بدلے گا، تھوڑا سا انتظار تو کر کھولیں ←