ااردو والی پوئٹری3 دن پہلے دو لائن امید اندھیری رات کا شکوہ نہ کر اے دلچراغ اپنا جلا، روشنی خود آئے گی
ااردو والی پوئٹری3 دن پہلے دو لائن امید ابھی تو پھول کھلنے ہیں ابھی بہار آنی ہےابھی تو دل کی ہر اک بات تجھ کو بتانی ہے
ااردو والی پوئٹری4 دن پہلے دو لائن امید گرے ہیں جو بھی وہی اٹھ کے مسکرائے ہیںہوا کے ساتھ بھی کچھ پیڑ لڑ کے آئے ہیں
ااردو والی پوئٹری5 دن پہلے دو لائن امید نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی — علامہ اقبال
ااردو والی پوئٹری11 Oct 2026 نظم امید نیا سویرا اندھیری رات کے دامن میں اک ستارا ہےیہی ستارا مرے حوصلوں کا سہارا ہےگلی گلی میں جو خاموشیاں بکھرتی ہیںانہی میں کل کی نئی صبح بھی اترتی ہےتو اپنے ہاتھ کی محنت پہ اعتبار تو کریہ وقت بدلے گا، تھوڑا سا انتظار تو کر