نظم امیدنیا سویرااندھیری رات کے دامن میں اک ستارا ہےیہی ستارا مرے حوصلوں کا سہارا ہےگلی گلی میں جو خاموشیاں بکھرتی ہیںانہی میں کل کی نئی صبح بھی اترتی ہےتو اپنے ہاتھ کی محنت پہ اعتبار تو کریہ وقت بدلے گا، تھوڑا سا انتظار تو کر11 Oct 20260 0 0 شیئر WhatsApp Facebook X Telegram Copy link Download image More… WhatsApp Facebook X Telegram Image
ااردو والی پوئٹری3 دن پہلے دو لائن امید اندھیری رات کا شکوہ نہ کر اے دلچراغ اپنا جلا، روشنی خود آئے گی
ااردو والی پوئٹری3 دن پہلے دو لائن امید ابھی تو پھول کھلنے ہیں ابھی بہار آنی ہےابھی تو دل کی ہر اک بات تجھ کو بتانی ہے
ااردو والی پوئٹری4 دن پہلے دو لائن امید گرے ہیں جو بھی وہی اٹھ کے مسکرائے ہیںہوا کے ساتھ بھی کچھ پیڑ لڑ کے آئے ہیں
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!