دو لائن اندازہم نے جھکنا نہیں سیکھا کسی دربار کے آگےسر اٹھا کے جیتے ہیں ہر اک دیوار کے آگے2 دن پہلے1 78 0 شیئر WhatsApp Facebook X Telegram Copy link Download image More… WhatsApp Facebook X Telegram Image
ااردو والی پوئٹری2 دن پہلے دو لائن انداز ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور — مرزا غالب
ااردو والی پوئٹری14 Oct 2026 دو لائن انداز ہم وہ دریا ہیں جو رستہ خود بنا لیتے ہیںہم کو روکو گے تو طوفان اٹھا لیتے ہیں
ااردو والی پوئٹری14 Oct 2026 دو لائن انداز لوگ کہتے ہیں بدل جاؤ زمانے کے لیےہم نے سوچا ہے زمانے کو بدل کر دیکھیں
ااردو والی پوئٹری14 Oct 2026 دو لائن انداز اپنی شرطوں پہ جیے ہیں، یہی پہچان رہیہم نے جھک کر کوئی دستار نہیں لی اب تک
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!