غزل
محبت
شام ڈھلتے ہی اداسی کا دیا جلتا ہے
شام ڈھلتے ہی اداسی کا دیا جلتا ہےکوئی آہٹ ہو تو دل اب بھی بہت مچلتا ہےتیری یادوں کا یہ موسم بھی عجب موسم ہےدھوپ نکلے تو بھی آنکھوں میں سماں ڈھلتا ہےہم نے سیکھا ہے محبت میں یہی اک سبقجو بچھڑ جائے وہ ہر سانس میں ساتھ چلتا ہے
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!