غزل
اداس
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتیموت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتیآگے آتی تھی حال دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتیجانتا ہوں ثواب طاعت و زہدپر طبیعت ادھر نہیں آتیہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتیمرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتیکعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی
— مرزا غالب
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!