دو لائن اندازہم نے جھکنا نہیں سیکھا کسی دربار کے آگےسر اٹھا کے جیتے ہیں ہر اک دیوار کے آگے نشان زدہ لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں4 دن پہلے1 بیت بازی: اگلا شعر «ی» سے 78 کاپی واٹس ایپ تصویر بنائیں Facebook X Telegram Copy link تبصرے (0) More… Facebook X Telegram
مرزا غالبMirza Ghalib دو لائن انداز ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اورहैं और भी दुनिया में सुख़न-वर बहुत अच्छेकहते हैं कि 'ग़ालिब' का है अंदाज़-ए-बयाँ औरHain aur bhi duniya mein sukhan-var bahut achchheKahte hain ki 'Ghalib' ka hai andaaz-e-bayaan aur کھولیں ←مرزا غالب
ااردو والی پوئٹری14 Oct 2026فالو کریں دو لائن انداز ہم وہ دریا ہیں جو رستہ خود بنا لیتے ہیںہم کو روکو گے تو طوفان اٹھا لیتے ہیں کھولیں ←
ااردو والی پوئٹری14 Oct 2026فالو کریں دو لائن انداز لوگ کہتے ہیں بدل جاؤ زمانے کے لیےہم نے سوچا ہے زمانے کو بدل کر دیکھیں کھولیں ←
ااردو والی پوئٹری14 Oct 2026فالو کریں دو لائن انداز اپنی شرطوں پہ جیے ہیں، یہی پہچان رہیہم نے جھک کر کوئی دستار نہیں لی اب تک کھولیں ←
تبصرے (0)
تبصرہ اور داد دینے کے لیے لاگ ان کریں
سب سے پہلے داد دیں!